ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سہارنپور فساد: متاثرہ دلتوں کی صدر جمہوریہ سے ملاقات ، میمورنڈم دے کر فساد کے معاملے میں مداخلت کا مطالبہ

سہارنپور فساد: متاثرہ دلتوں کی صدر جمہوریہ سے ملاقات ، میمورنڈم دے کر فساد کے معاملے میں مداخلت کا مطالبہ

Thu, 18 May 2017 11:57:05    S.O. News Service

نئی دہلی،17؍مئی(ایس او نیوز ؍ ایجنسی )مارکسی کمیونسٹ پارٹی ( سی پی ایم ) کی لیڈر برنداکرات اور سہاسنی علی کی قیادت میں اتر پردیش کے سہارنپور فسادات کے متاثر دلت خاندان کے افراد نے بدھ کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کر کے انصاف کی فریاد کی اور ان سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی۔ سہار نپور ضلع کے شبیر پور گاؤں کے ان متاثرین کے وفد نے پرنب مکھرجی کو سوپنے گئے میمورنڈم میں انہیں معاوضہ دینے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

سی پی ایم پولٹ بیورو کی رکن برانداکرات اور سہاسنی علی نے بتایا کہ پرنب مکھرجی نے دلت خاندان کے دردوالم کی داستا ن کو بغور سنا اور مثبت ردعمل کا اظہار کیا ۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ 14؍ اپریل کو گاؤں کے دلت روی داس مندر میں ڈاکٹر امبیڈ کر کا مجسمہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس پر اعلیٰ ذات ٹھاکر طبقے کے لوگوں نے اعتراض کیا اور بی جے پی ممبراسمبلی سے رابطہ کر کے اس کی شکایت پولیس سے کردی ۔ اس کے بعد پولیس نے آکر مجسمہ لگانے کے کام پر روک لگادی ، لیکن اس وقت دلتوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

5؍ مئی کو ٹھاکر کمیونٹی کے لوگوں نے قریب سے سملا نا گاؤں میں رانا پرتاپ جینتی منانے اور ان کا مجسمہ لگانے کے لئے ایک جلوس نکالا جس میں انتہائی تیز آواز کے ساتھ ڈی جے بجایا جارہا تھا۔ جلوس میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں تلوار تھی اور وہ قابل اعتراض نعرے لگارہے تھے۔ گاؤں کے پردھان نے پولیس سے شکایت کی اور ان سے مداخلت کی گزارش کی، لیکن پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد ٹھاکروں نے دلتوں کے 58؍ مکانات ، 25؍ سے 26؍ موٹر سائیکلوں ، گاڑیوں اور دُکانوں کو نذر آتش کردیا۔ جب فائر برگیڈ کی دو گاڑیاں آئیں اور پی اے سی کا ایک ٹرک بھی آیا تو گاؤں میں اسے گھسنے نہیں دیا گیا ۔ تشدد کے ان واقعات میں 14؍ افراد شدید زخمی ہوگئے جن کا ابھی بھی اسپتال میں علاج جاری ہے۔ اس تشدد میں ٹھاکر برادری کا ایک شخص دم گھنٹے کی وجہ سے مر گیا، اس کے خاندان کو 15لاکھ روپئے امداد کے طور پر دیئے گئے لیکن دلتوں کو کوئی امداد نہیں ملی۔ برخلاف اس کے کہ انہیں غلط مقدمات میں ماخوذ کردیا گیا ۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جب سے اترپردیش میں بی جے پی حکومت آئی ہے۔ ہندویواواہنی نے جو یوگی آدتیہ ناتھ کی تنظیم ہے، جار حانہ حملے شروع کردیئے ہیں اور اس میں بی جے پی کے لیڈر اور عوامی نمائندے شامل ہوگئے ہیں ۔ میمورنڈم میں الزام لگایا گیا کہ 20؍ اپریل کو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کی قیادت میں ہجوم نے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کے گھر پر حملہ کیا لیکن سپرنٹنڈنٹ کا ہی تبادلہ کردیا گیا ۔ ایسے میں آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس معاملے میں مداخلت کریں، کیونکہ دلتوں کی حفاظت حکومت کی خصوصی ذمہ داری ہے۔

فساد کے معاملے میں اب تک 37؍ ملزمین گرفتار : اتر پردیش میں ضلع سہارنپور کے رام نگر میں گزشتہ دنوں ٹھاکر دلت فساد کے معاملے میں اب تک 24؍ مقدمے درج کئے گئے ہیں اور 37؍ فسادیوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ایڈیشنل ڈائر یکٹر جنرل آف پولیس آنند کمار نے بتایا کہ رام نگر میں جو واقعہ پیش آیا، اس کی جانچ کی جارہی ہے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ اب تک 24؍ مقدمات درج کئے گئے ہیں اور 37؍ ملزمین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شبیر پور میں 5؍ مئی کو ہوئے نسلی تشدد میں 9؍ معاملے درج کئے گئے ہیں اور 17؍ گرفتاریاں ہوچکی ہیں جبکہ 20؍ اپریل کو سڑک دودھلی گاؤں میں ہوئے تشدد میں 6؍ معاملات درج کئے گئے اور 17؍ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کمار نے بتایا کہ تشدد کے دوران جو مقدمے درج کئے گئے ہیں ، ان کی جانچ چل رہی ہے۔ بے قصور لوگوں کو پریشان نہیں کیا جائے گا اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ سہارنپور میں حالات معمول پر آرہے ہیں۔ بھیم آرمی کے بانی نے جو بھی قانون شکنی کی ہے اس پر قانون اپنا کام کرے گا۔


Share: